ایک حقیقی قصہ یمن سے

(ایک انسان کی طرف سے کہ جب وہ کسی دوسرے کی مصیبت دیکھتا ہے تو اسکی اپنی مصیبت ہلکی لگنے لگتی ہے)۔

0
50

ترجمہ: عبدالرحمن علیم الحق

ایک مسافر جس کا تعلق الودیعہ سے تھا کہتا ہے کہ کی لوگ علاقے کے پاسپورٹ آفس پر اسکے کھلنے کا انتظار کر رہے تھے اور وہاں پر موجود لوگ یمنیوں پر ہونے والے مظالم اور دکھ درد کا ذکر کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص جسکی عمر کچھ تیس سال رہی ہوگی کھڑا ہوتا اور کہتا ہےکہ میں آپ لوگوں کو ایک ایسا قصہ سناؤں گا جو آپ کی پریشانیوں اور تنگیوں کو بھلا دے گا۔ قبل اسکے کہ کہانی سناتا وہ روہانسا ہو گیا کیونکہ وہ کوئی قصہ یا کہانی نہیں بلکہ ایک ایسے حقیقی واقعہ کا ذکر کرنے جارہا تھا جو خود اسی کے محلے میں واقع ہوا تھا۔ وہ کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” ایک شخص تھا جو ہمارے پڑوس کے محلے میں اپنی بیوی اور تین بچوں سمیت رہتا تھا۔ دو کمروں پر مشتمل اس کا کراۓ کا گھر تھا۔ وہ ایک دھاڑی مزدور تھا۔ اسکے راز چھپے ہوئے تھے مگر ایام زمانہ نے گردش کی، جنگ و جدل اور لڑائیاں شروع ہو گئیں جسکے نتیجے میں روزی کے مواقع ہاتھ سے سے نکلتے گئے یہاں تک کہ وہ علی الصبح گھر سے نکلتا اور شام کو کھالی ہاتھ گھر لوٹتا۔ ایک دن اندھیری رات کو وہ گھر واپس آیا تو دیکھتا ہے کہ اسکی بیوی پیٹ درد کے مارے چیخ رہی ہے تو جلدی سے ایمرجنسی میں الحزان نامی اسپتال میں پہنچایا اور باقی اسکے تینوں بچے سو رہے تھے تو اس نے بغیر کسی پڑوسی کو بتاۓ باہر سے دروازہ بند کر کے اسپتال چلا گیا۔ چیک اپ کے بعد پتہ چلا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے اور جلد از جلد اسے قیصری آپریشن کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی پچاس ہزار یمنی ریال کی بھی ۔ تو اس نے ہاسپٹل کے ڈائریکٹر سے منت سماجت کی کہ وہ سرجری کریں تب تک میں باہر جاکر پیسوں کا انتظام کرتا ہوں ۔ پیسوں کی فکر میں ڈوبا وہ باہر نکلا سڑک عبور کر رہا تھا کہ حادثہ ہوا اور وہ اس کا شکار ہو گیا۔ چند راہگیروں نے اٹھایا اور الکویت ہاسپٹل کے مورچری میں اس کی باڈی پہونچادی ۔ دوسری طرف سرجن ڈاکٹر اسکی بیوی پر لعن طعن کر رہا تھا کہ ایک ہفتہ ہو گیا اور ابھی تک شوہر نہیں آیا مگر اس عورت کے پاس سوائے آنسوؤں کے اور کوئی جواب نہ تھا۔

یہ بات دھیرے دھیرے لوگوں میں پھیل گئی کہ ایک شخص اپنی حاملہ بیوی کو اسپتال چھوڑ کر چلا گیا اور واپس نہ ہوا۔ چھان بین کے بعد معلوم ہوا کہ اسی کار حادثے میں ایک شخص کی جان گئ تھی جسکی لاش فلاں اسپتال میں رکھی ہوئی ہے ۔ ڈائرکٹر اسپتال اسکی بیوی کو لیکر وہاں گیا تاکہ اس کو پہچانے کہ وہی اس کا شوہر ہے یا کوئی اور ۔ لوگ دیکھ کر سکتے میں پڑ گئے کہ یہی اس عورت کا شوہر تھا ۔ مگر بیوی ایک دوسری دنیا میں گم ہو گئ؛ خیالوں کی دنیا میں، چیخی نہ چلائی اور نہ ہی کوئی تاثر ظاہر کیا۔ کسی طرح لوگ عورت کو اس کے گھر تک لے گۓ ۔ اندر داخل ہوتے ہوئے عورت نے بقیہ لوگوں سے درخواست کی کہ آپ لوگ باہر ہی انتظار کریں۔۔ ایک لمبے وقفہ کے بعد جب عورت کی کوئی آواز نہ آئی تو لوگ اندر جا کر دیکھتے ہیں کہ صدمے کی وجہ سے اس عورت کا بھی انتقال ہو چکا ہے اور وہ صدمہ یہ کہ بغل میں اس کے تین بچے ہیں جو پہلے سے ہی بھوک اور پیاس کی شدت سے مر چکے تھے کیونکہ انکے گھر کا باہری دروازہ مسلسل ایک ہفتہ سے بند پڑا ہوا تھا “

اس درد ناک واقعہ کو سن کر لوگ آہ و بکا کرنے لگے اور اپنی اپنی حالتوں اور خدا کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے لگے۔

تو اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور متعلقین کا حتی الامکان خیال کرو، یہ واقعہ اپنے اہل و عیال کو سناو تاکہ وہ ان نعمتوں کی قدر کریں جو انھیں میسر ہیں اور جن میں وہ جی رہے ہیں اور اللہ تعالی کے فضل کا شکر گزار بنیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here