دلی کہاں گئیں ترے کوچوں کی رونقیں

0
69

ابوالاشبال ابن فیضی

5انقلاب 1857 اور غالب، دونوں کو شاید ہی کوئی شخص فراموش کر سکے۔اور جو شخص غالب کو جانتا ہے اسے غالب کا تاریخی جملہ بھی یاد ہوگا کہ “میں وبائے عام میں مرنا نہیں چاہتا”۔ 1857 میں ایک طرف جہاں ظالم حکومت تھی جو لوگوں پہ ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہی تھی لوگ پریشان حال تھے لوگوں کے پاس کھانے کو نہیں تھا، ہر کسی کے دل میں ڈر نے گھر کر لیا تھا، گھروں کے دروازے بند تھے، گھر سے نکلتے ہی گولی مار دی جاتی تھی چاروں طرف ظالموں کا پہرہ تھا۔ ہر کسی کو اپنی جان کی پڑی تھی اور جو شخص جہاں تھا وہ یہی سوچ رہا تھا کہ جلد از جلد اپنے اصل وطن پہونچ جائے اور اسی لیے جو جہاں اور جس حال میں تھا اسی حال میں اپنے گھر کو روانہ تھا الطاف حسین بھی پیدل حصار سے اپنی جان بچا کر گھر کو روانہ تھے۔ کیوں کہ وہ سب یہ جانتے تھے کہ اگر یہاں رہے تو مارے جائیں گے۔ یا تو انگریز حکومت انہیں مار دے گی یا بھوک۔ کیوں کہ وہاں نہ تو کھانے کا انتظام ہو سکتا تھا اور نہ رہنے کا۔

5اور دوسری طرف وہ وبا جس کے متعلق غالب نے کہا تھا کہ میں وبائے عام میں مرنا نہیں چاہتا، اور جس کا شکار اس وقت کئ لوگ ہو چکے تھے اور جن میں خود غالب کے اپنے بھائی بھی تھے۔
اس کے بعد ملک پر جو دوسری بڑی وبا تھی وہ تھی تقسیم ہند، اس وقت چاروں طرف مذہبی وبا پھیلی ہوئی تھی جہاں لوگ مذہب کے نام پہ ایک دوسرے کے دشمن بنے ہوئے تھے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آ رہے تھے اور ہر شخص جلد از جلد کسی محفوظ جگہ پہنچنا چاہتا تھا تاکہ اپنی اور اپنے عیال کی جان کی حفاظت کر سکے اور اسی لیے ہر شخص پریشان حال تھا۔

5اور اب جو ایک تسیری وبا ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہے وہ ہے ‘کرونا’ اور جس نے اب تک ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے اور ابھی بھی لاکھوں لوگ اس کا شکار ہیں اور ہر کوئی اس سے بچنے کی تدابیر کر رہا ہے، ہمارے ملک کی حکومت نے بھی احتیاطی قدم اٹھایا ہے، جو کہ بہت بہتر ہے کہ ہم لوگ گھروں میں رہیں اور باہر نہ نکلیں تاکہ ہم اس وبا کا شکار نہ ہوں لیکن ہندوستان اس کے علاوہ اور صدیوں پہلے سے جس وبا کا شکار ہے وہ ہے بھوک اور غریبی۔ مجھے افسوس ہے اپنی حکومت پر جو کیمرے کے سامنے آ کر یہ تو کہہ رہی ہے کہ آج سے ہر گلی محلہ بند، لیکن اس حکومت کو اس بات کی بالکل بھی فکر نہیں ہے کہ گلی محلے میں رہنے والوں کا کیا ہوگا؟ حکومت نے گھروں سے نکلنے پر پابندی تو عائد کردی لیکن ان کے بارے میں بالکل بھی نہیں سوچا جو صبح کو بھوکے پیاسے گھروں سے نکلتے اور شام تک محنت مزدوری کر کے جینے کھانے کا سامان مہیا کرتے تھے۔
کل دلی کی ایک شام کا منظر دیکھ کر آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان سے پہلے کہیں میں اس وبا کا شکار نہ ہو جاؤں، لاکھوں کی تعداد صرف ایک شہر سے صرف اس لئے جلد از جلد گھر اپنے پہونچنا چاہ رہی تھی کہ ان کے پاس کھانے کا کچھ نہیں تھا تو سوچو پورے ملک کا کیا عالم ہوگا، ذرا غور کریں کہ آپ کو ایک ایسے شہر کا واقعہ بتا رہا ہوں جو ملک کا مرکز ہے، جہاں تمام وزارتوں کے منتری ہوتے ہیں جہاں بڑی بڑی کمپنیاں اور کارخانے موجود ہیں وہاں لاکھوں لوگ وبا کی فکر کئے بغیر صرف اس لئے گھروں سے پیدل نکل پڑے ہیں کہ انہیں دو وقت کی روٹی میسر نہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ اگر وہ یہاں رہے تو وبا کا شکار ہو سکتے ہیں اور جان جا سکتی لیکن دوسری طرف انہیں اس بات کا یقین ہے کہ اگر وہ ابھی یہاں سے نکل کر اپنے گھروں کو نہیں گئے تو یقیناً انہیں بھوک مار ڈالے گی۔ اور اسی لیے وہ نکل پڑے ہیں کہ اگر وبا سے بچ گیا تو کم از کم گھر پہ سکون کی دو روٹی تو ملے گی۔ ورنہ موت تو آنی ہے چاہے وبا سے ہو یا بھوک سے اور انہیں وبا سے مرنا بھوک سےمرنے کے مقابلے زیادہ آسان لگا۔

آخر میں یہ جاننا چاہوں گا کہ جب ملک کے ایک چھوٹے سے شہرمیں ہی لاکھوں ایسے لوگ ہیں جن کے پاس رہنے کھانا کا انتظام نہیں تو پورے ملک کا کیا عالم ہوگا؟ اور کہاں ہے وہ حکومت جو پاکستان بنگہ دیش اور افغانستان کے ہندو بھائیوں کی فکر کر رہی تھی ان کے لئے یہاں پہ جینے کا سامان پیدا کر رہی تھی آج اس حکومت کو کیا ہوگیا ہے جو اپنے ملک کے باشندوں کی ہی فکر نہیں کر رہی ہے؟ کیا حکومت کو اس بات کا علم نہیں ہے کہ بھوکے پیاسے لوگ جو گھروں کے لئے پیدل نکل چکے ہیں وہ بھی اس وبا کا شکار ہو سکتے ہیں؟ حکومت یہ بہت اچھے سے جانتی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ اسے اپنے ملک کے باشندوں کی فکر ہی نہیں ہے۔ ورنہ وہ ان کے لئے کھانے پینے یا کم از کم صحیح سلامت گھر پہونچانے کا انتظام کرتی لیکن افسوس کہ حکومت نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ اور ایسی حالت میں جب ہم سڑکوں پر اپنے بھائیوں کو بھوک کی خاطر تڑپتا دیکھتے ہیں، راتوں کو جانوروں کے ساتھ گفتگو کرتا دیکھتے ہیں تو ہم کیسے یہ تسلیم کرلیں کہ یہ حکومت ہماری خیر خواہ ہے اور جو اپنے لوگوں کو دو وقت کا کھانا نہیں دے سکتی ہے اس پر کیسے یقین کر لیں کہ واقعی یہ چاہتے ہیں کہ ہم اس وبا سے محفوظ رہیں۔

اور جب میں ملک کی یہ حالت دیکھتا ہوں تو مجھے جاں نثار اختر کا شعر یاد آتا ہے جسے صرف دہلی ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو نظر میں رکھ کر دیکھنا چاہیے کہ!
دلی کہاں گئیں ترے کوچوں کی رونقیں
گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں میں

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here