سراج احمد برکت اللہ فلاحی

زکوۃ دین ِاسلام کاتیسرا رکن ہے۔ مسلم شریف کی پہلی حدیث میں آپﷺ نے فرمایا ہے کہ : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پرہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں،نماز قائم کرنا ، زکوۃ دینا، روزہ رکھنا، اوراگر استطاعت ہو تو اللہ کے گھر کی زیارت یعنی حج کرنا۔

نماز ، روزہ اور حج کی طرح زکوۃ بھی اساسِ دین ہے ۔ اس کے بغیر نہ تو دین کا وجود صحیح اور مکمل شکل میں باقی رہ سکتا ہے اور نہ اس کی ادائی کے بغیر کوئی مومن ہوسکتا ہے۔ قرآن وسنت میں متعدد بار اس حقیقت کو واضح کیا گیا ہے اور کئی مقامات میں نماز کے ساتھ زکوۃ کا ذکر ملتا ہے۔ اسلام ایک مکمل طریقِ بندگی کا نام ہے۔سورہ ذاریات ، آیت (56)میں سارے انس وجن کی تخلیق کا مقصد بھی یہی بتایا گیا ہے ۔ اس لیے تو مومن کی پوری زندگی اور اس کے جملہ اعمال عبادت ہیں بہ شرطیکہ وہ شریعت کے دائرہ میں انجام دیے جائیں، اس کے علاوہ شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں جو براہ راست عبادت ہیں ۔ انہیں عبادت کہا گیا ہے،چناں چہ وہ عبادت کے اعلیٰ اور بنیادی مظاہر ہیں ،اس لیے انہیںعبادات کا عنوان قرار دیا گیاہے ۔ ارکان ِاسلام دین کے ایسے ہی بنیادی اور تعبدی امور ہیں ۔

عبادات کے سلسلہ میں یہ بات بہت بنیادی اہمیت کی حامل ہے کہ ان کو محض اللہ کی خوشنودی کے لیے انجام دینا ہے ، کسی غیراللہ کے خوف سے یا اس کو خوش کرنے یا دکھانے کے لیے کی گئی عبادت سرے سے عبادت تسلیم ہی نہیں کی جائے گی۔ نیز عبادت کے لیے طریقہ بھی وہی اپنایا جائے گا جو قرآن وسنت میں مذکور ہے۔ ’’اورجو شخص اللہ کے سامنے اپنے آپ کو جھکادے یعنی اللہ کی عبادت کرے اور وہ مخلص بھی ہو تو اس کے لیے بہترین اجر ہے‘‘۔(البقرۃ: 112 )
اس حوالہ سے قاضی عیاض ؒ کا قول بہت مشہور ہے ۔وہ لکھتے ہیں : تعبدی امور کے عنداللہ مقبول ہونے کے لیے دوشرطیں ہیں۔ (1)عبادت کے لیے جو طریقہ قرآن وسنت میں بتایا گیا ہے،وہی طریقہ اپنایا جائے۔ (2)اور اخلاصِ نیت یعنی ریا سے بچتے ہوئے محض اللہ کو خوش کرنے کے لیے عبادت کی جائے۔ اس لیے زکوۃ سے متعلق معاملات میں بھی ان امور کی رعایت ناگزیر ہے۔

زکوۃ سے متعلق دیگرجملہ امور کی طرح مسلمان رعایا سے زکوۃ کا مال وصول کرنا بھی اسلامی امارت و خلافت ہی کی ذمہ داری ہے اور یہ اس کا حق بھی ہے کہ مسلمان اپنے اموال ِزکوۃ اسی کی تحویل میں جمع کریں ۔ عصر حاضر میں چوں کہ مسلمان بلا کسی خلیفہ یاامیر کے زندگی گزار رہے ہیں ۔ آج پوری دنیا میں کہیں بھی خلافت کا وجود نہیں ہے۔ حالاں کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے:’’ جو شخص اس حال میں مرے کہ کسی خلیفہ کی بیعت اس کی گردن میں نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرا‘‘۔(مسلم بحوالہ کلام نبوت4/204)آج خلافت کا نہ ہوناایک سنگین جرم اور بھیانک گناہ ہے جس میں دنیا کے سارے مسلمان شریک ہیں۔ اس بڑی کوتاہی کی وجہ سے ہی آج مسلمانوں کو ان گنت مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ عدم خلافت کی وجہ سے مسلمان اس اہم فریضہ کی ادائی پورے حسن وکمال کے ساتھ نہیں کرپارہے ہیں اور نہ ہی اس کے تقاضے پورے ہورہے ہیں ۔ آج ممکنہ صورت کو اپناتے ہوئے مسلمان اپنے اموال ِزکوۃ مدارس وجامعات، اسلامی تنظیموں ،ٹرسٹوںاور رفاہی اداروں کو دیتے ہیں ۔اسی طرح مسلمان زکوۃ کے حقیقی ثمرات وفوائد سے بھی آج بڑی حد تک محروم ہیں۔ بالخصوص اس کی زد غریب ومحتاج طبقہ پر پڑتی ہے اور اس کی مار اس قدر سخت ہے کہ ہمارے یہاں کا غریب طبقہ نسلوں سے غریب چلا آرہا ہے۔وہ اپنے معاشی استحکام کے لیے کوئی معقول صورت اپنانے سے قاصر ہے۔

اسی طرح مدارس میں دینی تعلیم اور وہاں کے فارغین کی صورت حال بھی انتہائی افسوس ناک ہے ۔ اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ علماء اور اہل علم ودانش کاطبقہ اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرے ۔ دینی جماعتوں اور تنظیموں کے قائدین اس بات کا بغور جائزہ لیں۔زکوۃ اور اس سے متعلق جملہ امور میں ضروری اور مطلوبہ اصلاح کی فوری فکر کریں، اسے بہتر سے بہتر اور زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنانے کی سعی کریں۔

ذیل میں اسی احساس کے ساتھ بعض اہم امور کی طرف محصلینِ زکوۃ کی توجہ منعطف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر یہ حضرات اپنی ان ذمہ داریوں کا خیال کریں تو امید ہے کہ ملت مطلوبہ راستہ کی طرف بڑھ سکے گی اور غریب ونادار مسلمانوں کے برے دن جلد ہی عزت وسربلندی میں تبدیل ہوجائیں گے۔

1۔ ہر مسلم آبادی میں اجتماعی بیت المال قائم ہو ، جو جملہ مصارف زکوٰۃکو مدنظر رکھ کر نظام زکوۃ کو چلائے اور جس طرح بھی ممکن ہو سارے مستحقین تک اسے پہونچانے کی کوشش کرے۔ محصلین زکوۃ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ میں آخری حد تک کوشش کریں کہ بیت المال کا نظام قائم ہوسکے۔ اس کی ضرورت واہمیت کو بتانا ، لوگوں کے ذہن ودماغ کو اس کے لیے تیار کرنا اور اس راہ کی روکاوٹوں کو خود آگے بڑھ کردور کرنا ، ان کا فرض منصبی ہے ۔

2۔ محصلین بالخصوص اس بات کا احساس اپنے ذہن ودماغ اور دل میں اچھی طرح بٹھالیں کہ زکوۃ وصول کرنا انتہائی حساس فریضہ ہے۔یہ ایک دینی فریضہ ہے اور شریعت کی نگاہ میں محصل گویا اسلامی ریاست کا مرکزی نمائندہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس کااخلاقی معیار کافی بلند ہونا چاہیے۔اسے مسنون وضع قطع اور مہذب لباس میں ہونا چاہیے۔ جمع زکوۃ کا مسئلہ کافی حساس نوعیت کاہے ۔ اگر نیت خالص نہ رہی تو تمام صعوبتوں کو جھیلنے کے باوجود آدمی کے لیے اس کام کے خطرناک پہلوؤں سے بچنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

3۔ جمع زکوۃ محصل کی ایک نازک ذمہ داری اور امانت ہے ۔ اس کے تمام مراحل میں دینی نقطۂ نظرکو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ انسان فطری طور پر مال کا حریص ہوتاہے ۔ اسلامی تعلیم ہے کہ مال ایک بڑی نعمت ہونے کے ساتھ آزمایش کاذریعہ بھی ہے۔ اگر آدمی کے اندرواقعی امانت داری کا احساس نہ ہوتو لاکھ انتظام واحتساب کے باوجود خرد برد نہ ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔ شیطان ہمیشہ ساتھ لگا رہتا ہے اور اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جیسے بھی ہو خیانت پر آمادہ کیاجائے تاکہ اس کی ساری کوششوں پر پانی پھر جائے ۔

حدیث میں وعید موجود ہے کہ جو شخص زکوٰۃ کے مال میں خیانت یا خرد برد کرے گا قیامت کے دن وہ اس مال کو اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے آئے گا۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے مقررکیا اور فرمایا :’’اے ابوولیدؓ !اللہ سے ڈرتے رہنا، قیامت کے روز اس حالت میں نہ آنا کہ تم اپنے کندھے پر اونٹ اٹھائے ہوئے آؤجو بلبلارہاہو، یا گائے اٹھائے ہوئے آؤجو ڈکار رہی ہو، یا بکری اٹھائے ہوئے آؤ جو ممیا رہی ہواور مجھے سفارش کے لیے کہو‘‘۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا مال ِزکوٰۃ میں خرد برد کا یہ انجام ہوگا؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، یہی انجام ہوگا۔ حضرت عبادہ بن صامتؓ نے عرض کیا ’’اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺکو حق کے ساتھ بھیجا میں آپﷺ کے لیے کبھی بھی عامل کاکام نہیں کروں گا۔ ‘‘ ( صحیح الترغیب والترہیب للألبانی ج1؍حدیث778)

حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کو آپ ﷺ نے جس وقت خیبرکی بٹائی کا مال وصول کرنے کے لیے بھیجا، اس وقت انہیں ’ أمین ھٰذہ الأمۃ‘کے لقب سے ملقب کیا تھا۔ ان کے اندر بہت سی خوبیاں تھیں، لیکن اس موقع سے صرف امانت داری کا ذکر خاص معنی رکھتا ہے۔غرض کہ امانت داری ہی محصل کی سب سے بڑی خوبی ہے ۔

4۔ حدیث میں آیا ہے کہ میدان محشر میںجب حساب کتا ب ہوگا تو ہر انسان سے یہ بھی پوچھا جائے گا، تونے مال کہاں سے اورکیسے کمایا ؟ اور کہا ں اور کس کام میں خرچ کیا؟ اس سوال کو اگر محصلین اپنے سامنے رکھیں تو ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صرف حلال ذریعہ آمدنی رکھنے والے اہل ثروت سے ہی زکوۃ وصول کریں۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ایک حدیث ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :جس نے حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر بھی صدقہ کیا -اور اللہ حلال کمائی ہی قبول فرماتا ہے- اللہ اسے داہنے ہاتھ سے قبول فرماتا ہے اور پھر صاحب مال کے لیے اسے برابر بڑھاتا رہتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ج1؍ص189)

5۔ محصلین بالعموم ماہ رمضان میں زکوۃ جمع کرنے کی غرض سے نکلتے ہیں اور تقریبا پورا مہینہ سفر میں گزرتا ہے۔سفر کے اخراجا ت بلا کراہت مال زکوۃ سے لیے جاسکتے ہیں ۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ محصلین حد درجہ احتیاط کریں ، اسراف سے مکمل پرہیز کریں اور اپنی ذمہ دارانہ منصب کا پورا خیال رکھیں ۔ حساب صاف ستھرا ہونا چاہیے ۔ بسا اوقت خرد برد کی خبریں آتی رہتی ہیں ، جوانتہائی افسوسنا ک اور لائق مذمت ہیں۔ واضح رہے ایک صاحب نصاب مسلمان کسی محصل کو اپنامال زکوۃ دے کر ادائی زکوۃ کی اپنی ذمہ داری سے بری اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوجا تا ہے ۔آگے کا مرحلہ محصلین کے ذمہ ہے ۔ اب وہ جیسا کریں گے ، اللہ کے یہاں ان کا بدلہ اسی کے مطابق ہوگا۔ محصلین کو اللہ کی اس وعید کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہیے۔ ’’ اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اورانہیں اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں‘‘۔ (التوبۃ :34)

6۔ اگر کبھی کوئی صاحب ِنصاب نقد مال کے بجائے کوئی سامان زکوۃ میں دینا چاہے تومحصلین کی پوری کوشش ہونی چاہیے کہ وہ غیر معیاری سامان ، ردی یا عیب دارمال نہ لیں ۔ اگر صاحب زکوۃ اصرار کرے تو اسے قرآن مجید کی اس آیت کی روشنی میں تلقین کی جائے :اے ایمان والو! جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو زمین سے ہم نے تمہارے لیے نکالا ہے ، اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ اس راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالاں کہ وہی چیز اگر کو ئی تمہیں دے، تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کروگے الا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ ۔(البقرۃ:267)

7۔ جو لوگ دین کی تبلیغ واشاعت اور دینی تعلیم وتربیت کے لیے زکوۃ دیتے ہیں ، ان سے زکوۃ وصول کرتے وقت محصلین کو چاہیے کہ ان کے حق میں دعا کریں۔ اللہ ان کے اس عمل کو قبول فرمائے، زکوۃ کے ذریعہ ان کے اموال کو پاک فرمائے اور ان کی آمدنی میں برکت دے ۔ سنن أبوداؤد کی حدیث ہے: حضرت عبداللہ بن اوفی ٰؓکہتے ہیں کہ میرے والد صلح حدیبیہ میں شریک تھے ۔ نبی ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی جماعت زکوۃ کا مال لے کر آتی تو آپ ﷺ ان کے لیے دعا کرتے ۔ اے اللہ! ان کے خاندان والوں کو برکت سے نوازدے۔ میرے والد بھی اپنی زکوۃ لے کر نبی ﷺ کے پاس آئے تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی ۔ اے اللہ ! ابواوفیٰؓ کے خاندان میں برکت دے۔(بخاری کتاب الزکوٰۃ باب صلوٰۃ الامام ودعائہ لصاحبہ ج1 ص 203)

8۔ جو لوگ زکوۃ بہ خوشی دیں صرف ان ہی سے زکوۃ لینا چاہیے ۔ بہت زیادہ اصرار یا کسی دباؤ سے کام نہیں لینا چاہیے۔بسااوقت محصلین حضرات ایسے لوگوں سے بھی زکوۃ وصول کرنے لگتے ہیں جو زکوۃ دینے کا بالکل ارادہ نہیں رکھتے ۔ ایسے لوگوں کو زکوۃ نہ دینے والوں کے لیے قرآن میںجو وعید آئی ہے ، اسے بتانا چاہیے۔ ’’دردناک سزا کی خبر دے دو ،ان لوگوں کو جو سونے اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ایک دن آئے گا کہ اسی سونے اور چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں ، پہلؤوں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا اور کہا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جسے تم نے اپنے لیے جمع کیا تھا ۔ لو اب اپنی جمع کی ہوئی دولت کا مزہ چکھو‘‘۔ (التوبۃ: 34۔35)
9۔ صاحب ِنصاب افراد سے مال ِزکوۃ جمع کرنا اور متعلق ادارے تک پہنچانا ،انتہائی اہم اور ثواب کا کام ہے۔ نبی پاک ﷺ نے اپنے صحابہ کو محصل بناکر مختلف علاقوں میں زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ اس وقت مسلمان ان کی بڑی قدر کرتے تھے اور ان کی حیثیت ایک اعلیٰ افسر کی ہوتی تھی۔ لیکن افسوس کہ آج صورت حال یکسر بدل چکی ہے ۔ اہل ثروت محصلین کو بڑی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ، کوئی ادب واحترام نہیں کرتے ، بھیک مانگنے والوں کی طرح ان سے معاملہ کرتے ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ محصلین اپنی اہمیت کو سمجھیں اور لوگوںکو اسے بتائیں بھی کہ نماز روزے کی طرح زکوۃ نکالنا اور اسے ضرورت مندوں تک پہنچانا آپ کی اپنی دینی ذمہ داری ہے۔ یہ تو آپ کے ساتھ ہماری ہمدردی ہے کہ ہم دنیا بھر کی مصیبتیں جھیل کر آپ کے دکان یا مکان تک آتے ہیں اور آپ سے مال زکوۃ لے کرآپ کے اموال وانفس کو پاک کرتے ہیں ۔ آپ کو تو ہماری قدر کرنی چاہیے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here